kamyab log or nakamyab log

کامیاب اور ناکام لوگ

Related image

دنیا میں ہر شخص کامیابی کا طلب گارہے۔ کامیاب زندگی گزارنے کے لیے انسان زندگی میں مختلف انداز میں تگ ودو کرتا رہتا ہے۔ اپنے آپ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور اپنی اولادوں کو کامیاب بنانے کے لیے والدین دن رات کوشاں رہتے ہیں۔ دنیا میں تعلیم ‘اچھے روزگار یا اچھے منصب کے حصول کا مقصد کامیاب زندگی گزارنا ہوتا ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد مالی طور پر مستحکم افراد‘ بڑے جاگیرداروں‘ حکمرانوں اور معروف لوگوں کو کامیاب گردانتی ہے اور اس حوالے سے نمایاں نظر آنے والے ہر شخص کو بالعموم کامیاب تصور کیاجاتا ہے۔ کتاب وسنت کا مطالعہ کامیابی کی حقیقت کو بہت ہی احسن انداز میں واضح کرتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت سے ایسے ناکام لوگوں کا ذکر کیا جو مادی اعتبار سے نمایاں حیثیت کے حامل تھے‘ لیکن جب انہوں نے اپنے مقصد تخلیق کو فراموش کر دیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں ناکام اور نامراد لوگوں میں شامل کر دیا۔ فرعون کا ذکرقرآن مجید کے مختلف مقامات پر بڑی تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ وہ انتہائی بااثر حکمران تھا‘ لیکن حکومت کے نشے میں دھت ہو کر اپنی حیثیت کو فراموش کر چکا تھا اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی بجائے اپنے آپ کو رب قرار دینا شروع ہو چکا تھا۔ بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کر دیا کرتا اور اُن کی عورتوں کوچھوڑ دیتا تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس کی طرف مبعوث فرمایا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف ملنے والی بہت سی نشانیاں دکھلائیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے آنے والی گرفت اور پکڑ کو دیکھ کر وقتی طور پر و ہ اپنی اصلاح پر بھی آمادہ ہو جاتا‘ لیکن عذاب کو ٹلتا دیکھ کر دوبارہ سرکشی پر اتر آتا؛ حتیٰ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسے غرق آب کر دیا اور آخری وقت میں اس کے اسلام اور ایمان کے دعویٰ کو بھی قبول نہ کیاگیا۔ اس کی تباہی اور بربادی کا تذکرہ قرآن مجید کے مختلف مقامات پر کیا گیا ہے‘ جن میں سے سورہ یونس کی آیت نمبر90 ‘ 91 اور 92 میں اُس کے انجام کا ذکر کچھ طرح کیا گیا ہے 

: ''اور ہم نے پار کر دیا بنی اسرائیل کو سمندر سے تو پیچھا کیا ان کا فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور زیادتی کرتے ہوئے‘ یہاں تک کہ جب پالیا اس کو غرق (کے عذاب) نے (تو) کہا(فرعون نے) میں ایمان لایا بے شک یہ (حقیقت ہے کہ) نہیں کوئی معبود‘مگر وہ جو (کہ) ایمان لائے اس پر بنی اسرائیل اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ کیا اب ؟ حالانکہ یقینا تو نے نافرمانی کی تھی (اس سے) پہلے اور تھا تو فساد کرنے والوں میں سے‘ پس آج ہم (تجھے تباہ کر کے) محفوظ کر لیں گے تجھے‘ تیرے بدن سمیت ‘تاکہ تو ہو جائے ‘ان کے لیے‘ جو تیرے پیچھے (آنے والے) ہیں نشانی‘ اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے یقینا غافل ہیں۔‘‘
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں قارون کا بھی ذکر کیا‘ جس کو اتنا بڑا خزانہ دیا گیا تھا کہ خزانہ تو خزانہ رہا‘ اس کی چابیوں کو اُٹھانے کے لیے ایک بڑی اور طاقت ور جماعت کی ضرورت تھی ‘لیکن اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے اس مال کو اپنے علم وذہانت کے ساتھ منسوب کیا اور قوم کے سمجھدار لوگوں کی نصیحت کے باوجود لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر آمادہ وتیار نہ ہوا‘ تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کو اس کے گھر سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اس کو آنے والے لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا۔ 

سورہ قصص کی آیت نمبر 76سے 82میں اللہ تبارک وتعالیٰ قارون کی ہلاکت کے واقعہ کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: 

''بے شک قارون موسیٰ علیہ السلام کی قوم سے تھا۔ پس‘ اُس نے سرکشی کی اُن پر اور ہم نے دیا تھا‘ اُسے خزانوں سے (اس قدر) کہ بے شک اُس کی چابیاں یقینا (اُٹھانی) مشکل ہوتی تھیں‘ ایک طاقت والی جماعت کو جب کہا: اُس سے اُس کی قوم نے نہ اِترا‘بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اِترانے والوںکو۔ اور تو تلاش کر اس میں جو دیا ہے ‘تجھے اللہ نے آخرت کا گھر اور نہ بھول تو اپنا حصہ دنیا سے اور احسان کر (لوگوں پر) ‘جس طرح اللہ نے احسان کیا تجھ پر اور نہ تلاش کر زمین میں فساد بے شک اللہ نہیں پسند کرتا فساد کرنے والوں کو۔ اس نے کہا: یقینا صر ف میں دیا گیا ہوں‘ یہ (مال) ایک علم (کی بنیاد) پر (جو) میرے پاس ہے اور کیا نہیں اُس نے جانا کہ بے شک اللہ یقینا ہلاک کر چکا ہے ‘اس سے پہلے کئی اُمتیں ‘جو وہ بہت زیادہ سخت تھے ۔اس سے قوت میں اور بہت زیادہ تھے۔ جماعت میں اور نہیں پوچھے جائیں گے‘ مجرم لوگ اپنے گناہوں کے بارے میں۔ پھر وہ نکلا اپنی قوم کے سامنے اپنی زینت میں کہا :(اُن لوگوں نے) جو چاہتے تھے‘ دنیوی زندگی اے کاش! ہمارے لیے ہوتا (اس کی) مثل جو قارون کو دیا گیا ہے۔ بلاشبہ وہ یقینا بڑے نصیب والا ہے۔ اور کہا: (اُن لوگوں نے) جو علم دیئے گئے تھے‘ افسوس !تم پر اللہ کا ثواب بہت بہتر ہے (اُس شخص) کے لیے جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا اور نہیں دی جاتی یہ چیز‘ مگر صبر کرنیو الوں ہی کو۔ تو ہم نے دھنسا دیا اس کو اور اُس کے گھر کو (خزانوں سمیت) زمین میں پھر نہ تھا‘ اُس کے لیے کوئی گروہ (جو) مدد کرتے اس کی اللہ کے سوا اور نہ تھا‘ وہ (خود) بدلہ لینے والوں میں سے اور ہو گئے (وہ لوگ) جنہوں نے تمنا کی تھی‘ اُس کے مرتبے کی کل کو (اس حال میں کہ) وہ کہہ رہے تھے؛ ہائے افسوس! (ہم نے کیا آرزو کی)‘ اللہ (تو) فراخ کرتا ہے؛ رزق کو‘ جس کے لیے وہ چاہتا ہے‘ اپنے بندوں میں سے اور وہی تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے)‘ اگر (یہ) نہ ہوتا کہ احسان کیا اللہ نے ہم پر ضرور دھنسا دیتا ‘ہم کو (بھی) ہائے افسوس! یہ حقیقت ہے (کہ) کافر فلاح نہیں پاتے۔‘‘
قارون کے ساتھ ساتھ ہامان اور شداد بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کی گرفت کی لپیٹ میں آگئے۔ اسی طرح قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ابو لہب کے انجام بد کا بھی ذکر کیا۔ مکہ کا ایک صاحب ِ حیثیت انسان ہونے کے باوجود جب اس نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اُترنے والی وحی اور رسول کریمﷺ کی طرف سے دی جانے والی دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُس کو بھی نشانہ عبرت بنا دیا اور اس کی مذمت میں سورہ لہب میں کچھ اس انداز میں ارشاد فرمایا : 

''ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ ابو لہب کے اور وہ ہلاک ہو۔ نہ کام آیا اس کے اس کا مال اور (نہ) جو اس نے کمایا۔ عنقریب وہ داخل ہوگا شعلے والی آگ میں اور اس کی بیوی (بھی جو) ایندھن اٹھانے والی ہے۔ اس کے گلے میں مضبوط بٹی ہوئی رسی ہو گی۔ ‘‘

اس کے مد مقابل جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں بہت سے کامیاب حکمرانوں کے واقعات بھی نظر آتے ہیں۔ حضرت طالوت ؑاور حضرت ذوالقرنین ؑنے مثالی زندگی گزاری او ر زمین پر عدل اور انصاف کا بول بالا کیا ا ور فسادی عناصر کا قلع قمع کرنے میں مصروف رہے۔ اپنے کارہائے نمایاں کی وجہ سے یہ دونوں حکمران اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل ورحمت سے آنے والے نسلوں کے لیے مثال بن گئے‘ اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق‘ حضرت عمر فاروق‘ حضرت عثمان غنی اور حضرت علیٰ المرتضیٰ رضی اللہ عنہم بھی مثالی حکمرانوں میں شامل ہیں۔ حضرت عثمان غنی ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کی زندگی ہمارے تاجروں کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہے ‘اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں مالی اعتبار سے کمزور اور غریب طبقات سے وابستہ بہت سی ایسی شخصیات نظر آتی ہیں‘ جنہوں نے کامیاب اور مثالی زندگی گزاری؛ چنانچہ لوگوں کی اکثریت کی نظروں میں کامیابی اور ناکامی کا جو معیار ہے‘ وہ درست نہیں۔

حقیقت میں کامیاب انسان وہی ہے‘ جو اپنے مقصد تخلیق کو پہچان لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ﷺ کی صحیح معنوں میں اطاعت اور تابعداری کرتا ہے اور انسانوں کے ساتھ بھی اس کا معاملہ مثالی ہوتا ہے؛ چنانچہ کسی کی ظاہری کر وفر اور ہیبت وحشمت کو دیکھ اس کو کامیاب سمجھ لینا کوتاہ بینی ہے۔ حقیقی کامیابی اس شخص کو حاصل ہو گی ‘جس نے دین اور دنیا میں توازن رکھا اور دنیا وی زندگی کے رنگ و حسن میں اس طرح غرق نہیں ہو گیا کہ اپنے خالق ومالک اور یوم جزا کو فراموش کر دے؛ چنانچہ جہاں پر ہمیں اپنی دنیا کو سنوارنے کے لیے جستجو کرنی چاہیے ‘وہاں اپنی اخروی زندگی کے حوالے سے بھی بھرپور محنت کرنی چاہیے‘ اسی طریقے سے ہم کامیاب انسان بن سکتے ہیں۔ 

دنیا اور آخرت کی کامیابیوں کے حصول کے لیے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 201میں مذکور اس دعا کو ہمیں ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہیے : 

''اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔ ‘‘



قرآن کے مطابق زندگی کی کامیابی کے اصول


اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ ملامتیں سن کر اور بےکس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے۔اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا۔اور عجزو نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما۔جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے۔ اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے۔اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔ اور فضول خرچی سے مال نہ اُڑاؤ۔کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفر ان کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے۔اور اگر تم نے اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو اُن سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو۔اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل کھول ہی دو (کہ سبھی دے ڈالو اور انجام یہ ہو) کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ۔بےشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے۔اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرنا۔ (کیونکہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے۔اور زنا کے بھی پاس نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے۔اور جس کا جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت) ۔ اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتحیاب ہے۔اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکنا مگر ایسے طریق سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ ہو جوانی کو پہنچ جائے۔ اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی۔اور جب (کوئی چیز) ناپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کر دو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی۔اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں (کی چوٹی) تک پہنچ جائے گا۔ان سب (عادتوں) کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے۔اے پیغمبر یہ ان (ہدایتوں) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں۔ اور خدا کے ساتھ کوئی معبود نہ بنانا کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ اور (درگاہ خدا سے) راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے۔۔۔
(دلاور علی)

quran ki qasam uthana swear quran

quran ki qasam uthana swear quran

قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم کھانا


Image result for swear quran

السلام علیکم و رحمة الله تعالٰى و بركاته

میرے ایک دینی بھائی نے یہ سوال کیا ہے :

قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم کھانے کا کفارہ کیا ہے؟

احادیث مبارکہ سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ غیر اللہ کی قسم کھانا حرام ہے.

براہ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرما دیں.
 
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھانا
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سیدالمرسلین
قسم اور حلف کے متعلق پہلی بات یہ یاد رکھیں کہ :
اگر قسم اٹھانا ضروری ہوجائے تو قسم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے نام کی اٹھانا چاہیئے ؛
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ :
(مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ بِاللَّہِ أَوْ لِیَصْمُتْ ))
أخرجہ البخاري في کتاب الأیمان والنذور، باب: لا تحلفوا بآبائکم، (رقم: 6647)
ترجمہ :جس نے قسم اٹھانی ہو تو وہ اللہ کی اٹھائے وگرنہ خاموش رہے۔ ''
سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو کعبہ کی قسم کھاتے سنا تو فرمایا: اللہ کے علاوہ کسی کی قسم نہیں اٹھانی چاہیے کیونکہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: ((سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ۔))صحیح سنن الترمذي، رقم: 1535)
" جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم اٹھائی تو اس نے کفر یا شرک کیا۔ "
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ دوسروں کی یعنی مخلوق میں سے کسی مثلا نبی یا ولی یا باپ دادایاکسی انسان کی یا کسی مخلوق کی قسم کھانی جائز نہیں ہے جیساکہ جناب نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے :
لا تحلِفوا بآبائِكم ولا بأمَّهاتِكم ولا بالأندادِ ولا تَحلِفوا إلَّا باللهِ ولا تحلفوا باللهِ إلَّا وأنتُم صادقونَ(صحيح أبي داود:3248)
ترجمہ: اپنے باپوں یا ماؤں کے نام کی قسمیں نہ کھایا کرو اور نہ بتوں کے نام کی ۔ صرف اللہ کے نام کی قسم کھایا کرو اور اللہ کی قسم بھی اسی صورت میں کھاؤ جب تم سچے ہو ۔
لیکن قرآن کریم کی قسم اٹھانا اس شرکیہ قسم میں سے نہیں ،کیونکہ
ــــــــ
قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام ہے ،یعنی اس کی صفت ہے ،اس لئے مخلوق نہیں ،
یہی اہل سنت کا مذہب ہے ،
امام احمدبن حنبلؒ نے مسئلہ خلقِ قرآن کا جواب لکھتے ہوئے متوکل کو اپنے مراسلے میں کہا تھا کہ:
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
( وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ )
ترجمہ: اگر کوئی مشرک آپ سے پناہ مانگے تو اسے اللہ کا کلام سننے تک پناہ دو، پھر اس کی پر امن جگہ تک پہنچاؤ؛ یہ اس لیے کہ وہ ایسی قوم سے ہیں جو نہیں جانتے[التوبہ: 6]

اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ)
ترجمہ: وہی پیدا کرتا ہے اور حکم بھی اسی کا چلتا ہے ۔[الاعراف: 54]
تو اللہ تعالی نے پہلے "خلق" یعنی تخلیق کا تذکرہ فرمایا، اور پھر "امر" یعنی حکم کا الگ سے ذکر فرمایا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکم دینا اور تخلیق دونوں الگ الگ چیزیں ہیں" انتہی
اسے امام احمدؒ کے جناب صالحؒ نے بیان کیا ہے اور ان کی یہ روایت " المحنہ " صفحہ : ( 120 – 121) میں موجود ہے۔
امام احمدبن حنبلؒ سے پہلے ان کے استاد امام ، الحجہ، ثقہ الحافظ سفیان بن عیینہ ہلالی رحمہ اللہ نے ان آیات کو اسی مسئلے کی دلیل بنایا ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں :
ابن عيينة يقول: ما يقول هذه الدويبة؟ يعني بشرا المريسي قالوا: يا أبا محمد يزعم أن القرآن مخلوق فقال: كذب قال الله تعالى: {ألا له الخلق والأمر} [الأعراف: 54] فالخلق: خلق الله، والأمر: القرآن }
امام سفیانؒ نے پوچھا : یہ جانوربشر مریسی کیا کہتا ہے ؟ انہیں بتایا گیا کہ وہ کہتا ہے کہ قرآن مخلوق ہے ، فرمایا جھوٹ بکتا ہے ،
خود اللہ تعالی فرماتا ہے کہ : (أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ) [الاعراف: 54] اس آیت میں "خلق" سے مراد اللہ تعالی کی مخلوقات ہیں، اور "امر "سے مراد قرآن کریم ہے"
اس اثر کو امام أبو بكر محمد بن الحسين الآجُرِّيُّ البغدادي (المتوفى: 360هـ)

آجری نے " الشريعة " (جلد 1ص: 222) میں جید سند کے ساتھ سفیان بن عیینہ سے بیان کیا ہے۔
https://archive.org/stream/ksagksag/01#page/n226/mode/2up

اور امام سفیانؒ کا دوسرا قول امام عبداللہ بن امام احمدؒ نے "السنۃ " میں نقل فرمایا ہے :
عن ابن المبارك، عن سفيان، قال: «من قال إن قل هو الله أحد الله الصمد مخلوق فهو كافر»
أخرجه عبد الله في " السنة " رقم : (13) وسنده جيد .

یعنی امام سفیان بن عیینہؒ فرماتے ہیں : جو "قل ہو اللہ احد ،اللہ الصمد " کو مخلوق کہے وہ کافر ہے ،

اور امام شافعیؒ کا قول بھی یہاں بیان کرنا ضروری ہے ؛
"
من حلف باسم من أسماء الله فحنث فعليه الكفارة ؛ لأن اسم الله غير مخلوق ، ومن حلف بالكعبة ، أو بالصفا والمروة ، فليس عليه الكفارة ؛ لأنه مخلوق ، وذاك غير مخلوق "
أخرجه ابن أبي حاتم في " آداب الشافعي " (ص: 193) بإسناد صحيح 

ترجمہ : امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جو شخص اللہ تعالی کے ناموں میں سے کسی کی قسم اٹھائے اور پھر قسم پوری نہ کرے تو اسے کفارہ دینا ہو گا؛ کیونکہ اللہ تعالی کے اسمائے گرامی مخلوق نہیں ہیں، تاہم کعبہ اور صفا و مروہ کی قسم اٹھانے والے پر کفارہ نہیں ہے؛ کیونکہ یہ مخلوق ہیں جبکہ اللہ تعالی کے اسمائے حسنی مخلوق نہیں ہیں"
اس اثر کو ابن ابی حاتم نے " آداب الشافعی " (ص: 193) میں صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اب سوال کا دوسرا پہلو
قَسم تین قِسم کی ہوتی ہیں : ۱- لغو قسم ، ۲- بنیت کھائی گئی قسم [معقدہ ] ، ۳- اور گناہ کی قسم [یمین غموس ]

۱- لغو وہ قسم ہے جو انسان کی زبان سے عادۃ بغیر ارادہ ونیت کے نکلتی ہے ، اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ، اللہ تعالی فرماتا ہے : لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ" اللہ تعالیٰ تمہاری لغو (بلا ارادہ یا عادتاً) قسم کی قسموں پر گرفت نہیں کرے گا لیکن جو تم سچے دل سے قسم کھاتے ہو اس پر ضرور گرفت کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بردبار ہے ۔(البقرۃ 225)

۲- نیت و ارادہ سے کھائی گئی قسم وہ جو انسان اپنی بات میں تاکید اور پختگی کے لئے نیت و ارادہ سے کھاتا ہے ، یہ آئندہ کیلئے کھائی جاتی ہے مثلاً مستقبل کے کسی امر پر قسم کھائی کہ میں یہ کام نہیں کرونگا،پھر کسی ضرورت کے تحت وہ کام کر لے تو اس صورت میں قسم توڑنے والے پر کفارہ لازم آتا ہے، ایسی قسم توڑے تو اس پر کفارہ ہے ۔
۳- جھوٹی یعنی گناہ کی قسم : یہ وہ قسم ہے جو جھوٹی ہو اور انسان دھوکہ اور فریب دینے کےلئے کھائے ، یہ کبیرہ گناہ بلکہ بہت بڑا گناہ ہے ۔
مثلاً قسم ہے کہ میں نے آپ کی رقم ادا کردی جبکہ حقیقت میں ادا نہ کی ہو تو یہ جھوٹی قسم ہے جو کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے ،۔ ایسی جھوٹی قسم کے بارے ارشاد باری تعالی ہے:
﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾.... سورة آل عمران 77
بیشک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ تعالیٰ نہ ان سے بات چیت کرے گا، اور نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
نبی کریمﷺ نے کبائر (یعنی بڑے اور مہلک گناہوں کا ) بیان کرتے ہوئے فرمایا:
« عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الكَبَائِرُ: الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَاليَمِينُ الغَمُوسُ "
» رواه البخاري 6675
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبیرہ گناہ یہ ہیں :اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کی ناحق جان لینا اور «یمین الغموس‏"‏‏.‏» قصداً جھوٹی قسم کھانا۔
کیونکہ اس میں انسان جان بوجھ کر جھوٹ بول رہا ہوتا ہے،اور کسی کا ناحق مال ہتھیا رہا ہوتا ہے، یا کسی کا کوئی حق تلف کر رہا ہوتا ہے ،یا کسی کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے ،ایسی جھوٹی قسم کھانے پر کوئی کفارہ نہیں ہے، بلکہ توبہ کرنا،کثرت سے استغفار کرنا ،اور اگر کسی کا حق مارا ہے تو اسے واپس کرنا لازم اور ضروری ہے، شاید اللہ اس کے اس گناہ کہ معاف فرما دے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

jo log mar jaye after death

jo log mar jaye after death
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب انسان فوت ہو جائے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین اعمال کے (وہ منقطع نہیں ہوتے) : صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرے
صحیح مسلم: کتاب: وصیت کے احکام ومسائل (باب: انسان کو اس کی وفات کے بعد جو
 ثواب پہنچتا ہے)
عمل کا منقطع ہونا عام حکم ہے اس حکم میں وہی تخصیص ہے جس کا حکم وحی سے ثابت ہو، یعنی قرآن وحدیث سے
وفات کے بعد میت کے لئے صدقہ کرنا احادیث سے ثابت ہے، اسی طرح میت کے ذمہ کو روزے ہوں ان کا ادا کرنا بھی ثابت ہے!

مزید اس فتوی کو ملاحظہ فرمائیں:

سوال: کیا یہ میرے لئے جائز ہے کہ میں 100 بار سبحان اللہ ، یا کوئی اور ورد کرنے کے بعد یہ دعا کروں کہ اسکا ثواب میرے والدین کو ملے؟ واضح رہے کہ میرے والد صاحب فوت ہوچکے ہیں، جبکہ میری والدہ ابھی زندہ ہیں۔


الحمد للہ:
علمائے کرام کے فوت شدگان کو ایصال ثواب کے بارے میں دو اقوال ہیں:
1- جو بھی نیک عمل میت کیلئے ہدیہ کیا جائے تو وہ میت کو پہنچ جاتا ہے، اس میں تلاوت قرآن، روزہ، نماز، وغیرہ دیگر عبادات شامل ہیں۔
2- میت تک کسی بھی نیک عمل کا ثواب نہیں پہنچتا، صرف انہی اعمال کا ثواب پہنچ سکتا ہے، جن کے بارے میں دلیل موجود ہے، یہی موقف راجح ہے، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ: ( وَأَنْ لَيْسَ لِلإِنْسَانِ إِلا مَا سَعَى ) اور انسان کیلئے وہی ہے جس کیلئے اس نے خود جد و جہد کی۔[النجم:39]
اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب انسان مر جائے تو اسکے تین اعمال کے علاوہ سارے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں: صدقہ جاریہ، علم جس سے لوگ مستفید ہو رہے ہوں، یا نیک اولاد جو اسکے لئے دعا کرتی ہو) مسلم: (1631)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپکے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ، آپکی زوجہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، اور آپکی تین بیٹیاں رضی اللہ عنہن فوت ہوئیں، لیکن یہ کہیں بھی وارد نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کی طرف سے قرآن پڑھا ہو، یا خاص انکی طرف سے قربانی ، روزہ، یا نماز پڑھی ہو، ایسے ہی صحابہ کرام کی طرف سے بھی کوئی ایسا عمل منقول نہیں ہے، اور اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو صحابہ کرام ہم سے پہلے یہ کام کر چکے ہوتے۔
اور جن اعمال کے بارے میں میت تک ثواب پہنچنے کا استثناء دلائل میں موجود ہے ان میں حج، عمرہ، واجب روزہ، صدقہ، اور دعا شامل ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرمان باری تعالی: ( وَأَنْ لَيْسَ لِلإِنْسَانِ إِلا مَا سَعَى ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
"اسی آیت سے امام شافعی اور انکے موقف کی تائید کرنے والوں نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ فوت شدگان تک تلاوت قرآن کا ثواب نہیں پہنچتا؛ کیونکہ تلاوت انہوں نے خود نہیں کی، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس کام کیلئے ترغیب نہیں دلائی، اور نہ انکے کیلئے اسے اچھا قرار دیا، اور نہ ہی اس کام کیلئے واضح یا اشارۃً لفظوں میں رہنمائی فرمائی ، آپ کے کسی صحابی سے بھی ایسی کوئی بات منقول نہیں ہے، اگر یہ کام خیر کا ہوتا تو وہ ہم سے پہلے کر گزرتے۔
عبادات کے معاملے میں شرعی نصوص کی پابندی کی جاتی ہے، اسی لئے عبادات کے متعلق قیاس آرائی نہیں کی جاسکتی، جبکہ دعا اور صدقہ کے بارے میں یہ ہے کہ یہ میت کو پہنچ جاتا ہے، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح لفظوں میں بیان کیا ہے"
( تفسير ابن كثير: 4/ 258 )

اور اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ تمام نیک اعمال کا ثواب میت کو پہنچ جاتا ہے تو میت کیلئے مفید ترین عبادت "دعا" ہے، تو ہم ایسے اعمال جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ترغیب دلائی ہے، انہیں چھوڑ کر ایسے اعمال کے پیچھے کیوں جاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کئے، آپکے کسی صحابی نے نہیں کئے!؟ حالانکہ ہر قسم کی خیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ کرام کے راستے پر چلنے میں ہے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے تلاوتِ قران، اور صدقہ کا ثواب زندہ یا فوت شدہ ماں کو ہدیہ کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا:
"تلاوت قرآن کے بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے، کہ تلاوت کا ثواب میت کو پہنچتا ہے یا نہیں ؟ اس بارے میں دو قول ہیں، راجح یہی ہے کہ تلاوت کا ثواب میت کو نہیں پہنچتا، کیونکہ اس بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے؛ ہمارے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ میں سے آپکی زندگی میں فوت ہونے والی بیٹیوں کی طرف سے ایسا نہیں کیا، اور نہ ہی صحابہ کرام نے ایسا کیا، اس لئے بہتر یہ ہے کہ مؤمن ان امور میں مشغول نہ ہو، اور زندہ ہوں یا فوت شدہ کسی کیلئے تلاوت ، اور نماز مت پڑھے، ایسے ہی انکی طرف سے نفل روزے مت رکھے؛ کیونکہ ان تمام امور کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے۔
اور عبادات کے بارے میں اصول یہ ہے کہ جو اللہ اور اسکے رسول کی طرف سے ثابت ہوچکا ہے اسی پر عمل کیا جائے وگرنہ توقف اختیار کریں۔
جبکہ صدقہ کے بارے میں تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اس سے زندہ ہوں یا مردہ سب کو فائدہ ہوتا ہے، اسی طرح دعا سے بھی ، مسلمانوں کا اس پر بھی اجماع ہے، زندہ کے بارے میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ وہ صدقہ سے مستفید ہوگاچاہے وہ اپنی طرف سے کرے یا کسی کی طرف سے، اسی طرح دعا کرنے سے بھی فائدہ ہوگا، چنانچہ جو شخص اپنے والدین کیلئے انکی زندگی میں دعا کرے تو دعا سے اسکے والدین کو فائدہ ہوگا، اسی طرح انکی طرف سے انکی زندگی میں صدقہ کرنا بھی مفید ہوگا، اسی طرح اگر والدین نہایت بوڑھے ہوچکے ہیں، یا اتنے بیمار ہیں کہ انکی شفایابی کی امید نہیں ہے، تو ایسی صورت میں انکی طرف سے حج کرنا بھی انکے لئے مفید ہوگا، کیونکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے: ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: "فریضہ حج میرے والد پر انتہائی بڑھاپے کی حالت میں فرض ہوچکا ہے، لیکن وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے، تو کیا میں انکی طرف سے حج کر لو؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انکی طرف سے تم حج کرو) ، ایک اور واقعے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھا ہے، حج نہیں کرسکتا ، اور نہ سفر کی مشقت برداشت کر سکتا ہے، تو کیا میں انکی طرف سے حج اور عمرہ کر سکتا ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرو)، اس سے پتہ چلتا ہے کہ فوت شدگان، یا انتہائی بوڑھے عاجز افراد کی طرف سے حج کرنا جائز ہے۔
چنانچہ صدقہ ،دعا، میت کی طرف سے حج یا عمرہ، اور اسی طرح میت کے ذمہ واجب روزے بھی رکھے جاسکتے ہیں چاہے یہ واجب روزے نذر، کفارہ ، یا رمضان کے روزے ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عام ہے: (جو شخص مر گیا اور اس کے ذمہ واجب روزے تھے اسکی طرف سے اسکا ولی روزے رکھے گا)اس حدیث کی صحت پر سب کا اتفاق ہے۔ اس معنی اور مفہوم کی دیگر احادیث بھی موجود ہیں۔
لیکن جس شخص نے رمضان کے روزے سفر، یابیماری کی وجہ سے چھوڑے، اور وہ انکی قضا دینے سے پہلے ہی فوت ہوگیا تو اسکی طرف سے قضائی نہیں دی جائے گی، اور نہ ہی کھانا کھلایا جائے گا؛ کیونکہ وہ معذور ہے"انتہی
"مجموع فتاوى ومقالات شيح ابن باز" (4/348)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
"کیا کوئی آدمی مالی صدقہ کرتے ہوئے کسی دوسرے کو اجر میں شریک بنا سکتا ہے؟
تو انہوں نے جواب دیا:
"یہ جائز ہے کہ ایک شخص مالی صدقہ اپنے والد، ماں، بھائی یا کسی بھی مسلمان کی طرف سے نیت کرتے ہوئے کرے، کیونکہ [اللہ کے ہاں]اجر بہت زیادہ ہے، چنانچہ صرف اللہ کیلئے پاک مال سے دئے جانے والے صدقہ کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر دیا جاتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

( مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ) 

ترجمہ: اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے لوگوں کی مثال اس بیج کی طرح ہے جس سے سات بالیاں نکلتی ہیں، اور ہر بالی میں 100، 100 دانے ہوتے ہیں، اور اللہ تعالی جسے چاہتا ہے بڑھا چڑھا کر نوازتا ہے، اور اللہ تعالی وسعت والا، اور جاننے والا ہے۔ [البقرة:261]
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بکری کو اپنی اور اپنے تمام اہل خانہ کی طرف سے عید پر قربان کیا کرتے تھے"
"فتاوى شيخ ابن عثيمين" (18/249)
مندرجہ بالا وضاحت کے بعد یہ عیاں ہوگیا ہے کہ آپکی طرف سے والدین کو ذکر کا ثواب ہدیہ کرنا راجح موقف کے مطابق درست نہیں ہے، چاہے آپکے والدین زندہ ہوں یا وفات پا گئے ہوں، آپکے لئے نصیحت یہ ہے کہ آپ انکے لئے کثرت سے دعا کریں، صدقہ کریں، کیونکہ خیر و بھلائی تو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ کی اتباع ہی میں ہے۔
واللہ اعلم .

ramazan sell free ramadan discount

ramazan sell free ramadan discount

لوٹ مار سیل رمضان المبارک

دیکھنا کہیں یہ سیل ہم سے چھوٹ نہ جائے اور دیکھنا کہیں یہ مبارک ایام غفلت میں نہ گزر جائیں ،
دیکھنا کہیں یہ فضول ٹیلیویژن کے پروگراموں میں وقت برباد نہ ہوجائے،
دیکھنا کہیں یہ سوشل میڈیا کی فضول پوسٹوں میں وقت برباد نہ ہوجائے،
دیکھنا کہیں یہ سوشل میڈیا کی فضول بحث و مباحثوں میں وقت برباد نہ ہوجائے،
دیکھنا کہیں یہ سیاست و سیاسی مخالفین اور اپنے سیاسی لیڈر کے دفاع میں وقت برباد نہ ہوجائے،
دیکھنا کہیں دوسروں کو لعن و طعن میں وقت نہ گزر جائے ،
دیکھنا کہیں نئے نمازیوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھ کر اپنے اعمال کو خسارے میں نہ ڈال لینا ،
دیکھنا اور خاص دیکھنا کہ اپنی عبادت کے تکبر میں سارے اعمال برباد نہ ہوجائیں ،

دیکھنا کہیں آپ کے الفاظ کے تیر کسی تائب کے دل کو چھلنی نہ کردیں،

نہ تو جنت و جہنم کے ذمہ دار آپ ہیں اور نہ ہی مسجد آپکا گھر ہے بلکہ اللہ کی طرف کی چل کر آنے والا وہ مبارک تائب انسان اللہ تعالی کا مہمان ہے اور معاملہ تو غفور و الرحیم کے ہاتھ ہے اور کہیں اپنے تئیں متقی ہونے کے گھمنڈ میں کسی تائب کو بدظن کرنے کے وبال میں اپنی جان شکنجے میں نہ پھنسوا بیٹھنا


وہ شخص تباہ و برباد ہو جائے جس پر رمضان آ کر چلا جائے اور اس کی مغفرت نہ ہو، (سنن ترمذی)

نفل فرض کے برابر،

ایک نیکی کا بدلہ 70 گنا میں ملے،

عمرہ حج کے برابر،

ویسے تو پورا سال اللہ تعالی کی رحمت نازل ہوتی ہے پر اس ایک ماہ میں خاص ہے،

جس ماہ کی ابتداء ہی ایسی بابرکت ہو اس کے کیا کہنے ؟ اور اس کی ابتداء کے متعلق سیدالاولین و الاخرین ﷺ بتا رہے ہیں کہ کیا کیا اکرام اللہ تعالی کی طرف سے کیا جاتا ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور دوزخ کے دورازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور پھر اس کا کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا پھر جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور پکارنے والا پکارتا ہے اے خیر کے طلبگار آگے بڑھ اور اے شر کے طلبگار ٹھہر جا اور اللہ کی طرف سے بندے آگ سے آزاد کر دئیے جاتے ہیں یہ معاملہ ہر رات جاری رہتا ہے 
(سنن ترمذی)

اس ماہ میں لیلۃ القدر ہے، یہ بابرکت رات ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے ، اس رات کی فضیلت کے باعث فرشتے اور جبریل اس رات میں اترتے ہیں، یہ رات فجر تک سلامتی اور خیر والی ہوتی ہے، اس مہینے میں گناہ اور خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں،

آپ ﷺ کا فرمان ہے "پانچوں نمازیں ، جمعہ سے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے" ( مسلم)

پیارے نبی ﷺ جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو اپنی کمر کس لیتے اور رات کو عبادت کرتے، رمضان میں لیلۃ القدر بھی ہے ؛ چنانچہ

"جو شخص بھی ایمان کی حالت میں اور ثواب کی امید کے ساتھ اس رات کا قیام کرے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں"(متفق علیہ)

آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے " جو شخص رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی امید سے روزے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں" (متفق علیہ)

یہ بھی آپ ﷺ کا فرمان ہے "مرد کے اہل و عیال ، مال و دولت، ذاتی اور پڑوسیوں سے متعلق گناہوں کو روزہ مٹا دیتا ہے" (متفق علیہ)

روزے کی وجہ سے خوشیاں ملتی ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے "روزے دار دو مرتبہ خوش ہوتا ہے: روزہ افطار کرے تو خوش ہوتا ہے، اور جس وقت اپنے پروردگار کو ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہو گا" (بخاری)

روزہ قیامت کے دن روزے داروں کیلیے شفاعت کرے گا "روزہ کہے گا: پروردگار! میں نے اسے دن میں کھانے پینے اور من پسند چیزوں سے روکے رکھا ؛ اس لیے میری اس کے بارے میں شفاعت قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: میں نے رات کو اسے سونے نہیں دیا؛ اس لیے میری بھی اس کے بارے میں شفاعت قبول فرما۔ تو اللہ تعالی ان دونوں کی شفاعت قبول فرمائے گا" (مسند احمد)

مومن اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے کسی بھی چیز کو حقیر نہیں سمجھتا؛ کیونکہ ایک پائی ہزاروں کی مالیت سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے، پانی پلانا اور کھانا کھلانا بھی صدقہ ہے،

آپ ﷺ کا فرمان ہے "روزہ افطار کروانے والے کا ثواب بھی روزے دار کے برابر ہے، اور اس سے روزے دار کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں آتی"( سنن ترمذی)

ابن عمر رضی اللہ عنہ جب بھی روزہ رکھتے تو افطاری مساکین کے ساتھ ہی کرتے تھے، صدقہ خیرات اور روزے بیک وقت رکھنا موجبِ جنت ہے، اللہ کے بندوں پر سخاوت کرنے والے پر اللہ سخاوت فرماتا ہے؛ کیونکہ جیسا کام ویسا دام،

آپ ﷺ کا فرمان ہے "جنت میں ایسے کمرے ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے دکھائی دیتا ہے
تو ایک دیہاتی شخص نے کھڑے ہو کر کہا: "اللہ کے رسول ! یہ کس کیلئے ہیں؟"
تو آپ ﷺ نے فرمایا "جو اعلی گفتگو کرے، کھانا کھلائے، پابندی سے روزے رکھے، اور رات کے وقت جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو قیام کرے" (سنن ترمذی)

اعتکاف بیٹھنا عبادت اور سنت ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ "رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں آخر دم تک اعتکاف بیٹھتے رہے"(متفق علیہ)

زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں "مسلمانوں پر تعجب ہے کہ انہوں نے اعتکاف بیٹھنا ہی چھوڑ دیا ہے؛ حالانکہ آپ ﷺ جب سے مدینہ آئے آپ ہر سال اعتکاف بیٹھتے رہے یہاں تک اللہ تعالی نے آپ کی روح قبض فرما لی"

روزہ رکھ کر قربِ الہی کی جستجو اسی وقت کار آمد ہو گی جب فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے مکمل اجتناب پایا جائے گا؛ لہذا جب روزہ رکھو تو آپ کے ساتھ آپ کے کان، آنکھیں، زبان اور ہاتھوں کو بھی روزہ رکھوائیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ روزے کا دن بھی عام دنوں جیسا ہی ہو ، اس لیے ! روزوں کے ثواب میں کمی کا باعث بننے والے امور سے بچو، حرام چیزوں کا ارتکاب مت کرو اور نہ ہی حرام چیزیں سنو،

آپ ﷺ کا فرمان ہے "جو شخص جھوٹی بات کرنا یا اس پر عمل نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں "( بخاری)

والدین کے ساتھ نیکی اور صلہ رحمی بلندئ درجات کا باعث ہے، لہذا برکتوں والے لمحات میں نیک اولاد اپنے والدین کے مزید قریب ہو جاتی ہے۔

اچھی بات کی دعوت دینے والے کو قیامت کے دن تک اتنا ہی اجر ملتا رہے گا جتنا اس پر عمل کرنے والے کو ملتا ہے، اگر ایک آدمی بھی راہِ راست پر آ جائے تو یہ سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔

اچھی دوستی معاونت ، قوت اور استقامت کا باعث ہوتی ہے، کوئی بھی عقل مند اچھے دوستوں سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا؛
غار میں اچھے ساتھی نے ہی کہا تھا
{إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا جب اس نے اپنی ساتھی سے کہا: غم نہ کر! بیشک اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے۔التوبۃ : 40

کسی شخص کے نیک ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ زبان کی حفاظت کرے اور نیک کام کرے، اللہ تعالی جب کسی قوم کے بارے میں برا فیصلہ فرما لے تو انہیں جھگڑوں میں ملوث فرما دیتا ہے اور انہیں کچھ کرنے کی توفیق نہیں دیتا ہے۔

توبہ کا دروازہ کھلا ہے، اللہ تعالی کی طرف سے نوازشیں ہو رہی ہیں، اب کامیاب وہی ہو گا جو توبہ کے دروازے پر دستک دے اور اللہ کے سامنے گڑگڑائے، اپنے نامہ اعمال میں کثرت کے ساتھ استغفار پانے والے کیلیے خوشخبری ہے۔

نیکیوں میں مومن کو سرور اور مزا آتا ہے، کامیابی و کامرانی بھی اسی میں ہے، دن ہو یا رات تقوی کا دامن مومن کے ہاتھ سے نہیں چھوٹتا۔ مسلمان کبھی فارغ نہیں بیٹھتا ؛ کیونکہ موت اس کی تاک میں ہے، اس لیے ذاتی محاسبہ کی روش اپنانے والا کامیاب اور غافل شخص نامراد ہوتا ہے، نتائج سامنے رکھنے پر نجات کے مواقع بڑھ جاتے ہیں ، اور ایسا شخص مبارکبادی کا مستحق ہے جو ہوس پرستی بن دیکھے وعدوں کی وجہ سے ترک کر دے۔

اپنی نگاہوں کو بے لگام رکھنے والے کی حسرت و ندامت بھی بے قابو ہو جاتی ہے، نیک عورت ہمیشہ حیا کی چادر لیکر رکھتی ہے، پردہ ہی اس کی خوبصورتی ہے، وہ ہمیشہ بلا ضرورت اجنبی مردوں کے سامنے آنے اور بازار میں جانے سے کتراتی ہے۔
،
اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

یہ بات جان لو کہ ، اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے خلفائے راشدین ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین ، یا اللہ ! اس رمضان المبارک کو ہماری زندگیوں کو تقویٰ میں بدلنے اور کثرت سے اعمال صالح کرنے کی ابتداء کا مہینہ بنا دے،،،آمین

( اس تحریر کے چند اقتباس خطبات حرمین سے لیے ہیں)​